Christian Translation » ایمان کا بیان

ایمان کا بیان

بائبل

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ بائبل پُرانے اور نئے عہد نامے پر مُشتمل خُدا کا الہامی اور نہ ٹلنے والا کلام ہے (متی 18:5 ؛ دُوسرا تمیتھیس 3: 16-17 )۔ اور ایمان میں بائبل کو اغلاط سے پاک حقیقی تحریر مانتے ہیں جو خُدا کی طرف ایمان اور عمل کے لئے مکمل اور حتمی اختیار ہے (دُوسرا تمیتھیس 16:3-17 )۔ انسانی لکھاریوں کی انفرادی طرز تحریر کو استعمال کرتے ہوئے ، پاک رُوح نے اُنہیں ہدایت کی ، کہ وہ اختصار سے وہی لکھیں جو وہ بغیر خطا و غلطی کے لکھوانا چاہتا تھا (دُوسرا پطرس 21:1 )۔

:خُدا

ہم ایک خُدا پر ایمان رکھتے ہیں جو سب کا خالق ہے (استعثنا 4:6 ؛ کُلسیوں 16:1 )، جس نے اپنے آپ کو تین متفرق شخصیتوں باپ، بیٹے اور رُوح القدس کی صُورت میں ظاہر کیا ہے (دُوسرا کرنتھیوں 14:13 )، تا ہم وہ ہستی،رُو اور جلال میں ایک ہے(یوحنا 30:10 )۔ خُدا ابدی (زبُور 2:90 )، لامحدود (پہلا تمیتھیس 17:1 ) ، اور قادر مُطلق ہے (زبُور 1:93 )۔ خُدا سب کُچھ جاننے والا (زبُور 139 : 1-6 )، ہر جگہ موجود (زبُور 139 : 7-13 )، سب پر قادر (مُکاشفہ 6:19 )، اور لاتبدیل ہے (ملاکی 6:3 )۔ خُدا پاک (یسعیاہ 3:6 )، مُنصف (استعثنا 4:32 )، اور راستباز (خروُج27:9 )ہے۔ خُدا مُحبت (پہلا یوحنا 8:4 )،پُر فضل (افسیوں 8:2 )، رحم کرنے والا (پہلا پطرس 3:1 ) اور بھلائی کرنے والا ہے (رومیوں 28:8 )۔

:یسوع مسیح

ہم خُداوند یسوع مسیح کی الوہیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ انسانی صُورت میں خُود متجسم خُدا ہے جو باپ کی ظاہری صُورت ہے ، اور جو ہمیشہ سے خُدا ہے وہ انسان بنا ،تا کہ وہ دکھا سکے کہ خُدا کون ہے اور انسانوں کی نجات کا ذریعہ مہیا کرتا ہے۔ (متی 21:1 ؛ یوحنا 18:1 ؛ کُلسیوں 15:1 )۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع مسیح رُوح القدس کی قُدرت سے کنواری مریم سے پیدا ہُوا؛ اور کہ وہ حقیقتاً مُکمل خُدا اور حقیقتاً مُکمل انسان ہے؛ اور کہ اُس نے کامل اور پاک زندگی گُزاری اور اُس کی تعلیمات برحق ہیں (یسعیاہ 14؛ متی 23:1 )۔ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند یسوع مسیح نے سب انسانوں کی خاطر صلیب پر جان دی(پہلا یوحنا 2:2 )بطور مُتبادل کفارے کے (یسعیاہ 53: 5-6 )۔ ہمارا یقین ہے کہ اُس کی موت اُن سب کی نجات کیلئے کافی ہے جو اُسے بطور اپنے نجات دہندہ قبُول کرتے ہیں (یوحنا 12:1؛ اعمال 31:16 )؛ کہ ہماری راستبازی اُس کے خُون بہانے میں پنہاں ہے (رومیوں 9:5 ؛ افسیوں 17:1 )؛ اور یہ اُس کے لُغوی، جسمانی مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے ثابت ہوتا ہے (متی 6:28 ؛ پہلا پطرس3:1 )۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند یسوع مسیح اپنے جلالی بدن میں آسمان پر چڑھ گئے(اعمال 1: 9-10 ) اور اب بطور ہمارے وکیل اور سردار کاہن خُدا کے دہنے ہاتھ جا بیٹھے ہیں (رومیوں 34:8 ؛ عبرانیوں 25:7 )۔

:رُوح اُلقدس

ہم رُوح اُلقدس کی شخصیت اور الوہیت پر ایمان رکھتے ہیں (اعمال 5: 3-4 )۔ وہ گناہگاروں کو نیا کرتا ہے (طیطس 5:3 ) اور ایمانداروں میں سکونت کرتا ہے (رومیوں 9:8 )۔ وہ ایسا وسیلہ ہے جس سے مسیح سب ایمانداروں کو اپنے بدن میں بپتُسمہ دیتا ہے (پہلا کرنتھیوں 12: 12-14 )۔ وہ ایسی مہر ہے جس سے باپ مُخلصی کے دن ایمانداروں کی نجات کی ضمانت دیتا ہے (افسیوں 1: 13-14 )۔ وہ الہی اُستاد ہے جو ایمانداروں کے دلوں اور دماغوں کو روشن کرتا ہے جب وہ خُدا کا کلام پڑھتے ہیں (پہلا کرنتھیوں 2: 9-12 )۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ روح القدس روحانی نعمتوں کی تقسیم میں آخرکار خُودمُختار ہے (پہلا کرنتھیوں 11:12 )۔ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ رُوح کی معجزاتی نعمتیں ، جبکہ کسی طرح بھی رُوح کی قوت بخش صلاحیت سے مُبرا، اب اُس حد تک کام نہیں کرتیں جیسے کلیسیائی ابتدائی ترقی میں تھا (پہلا کرنتھیوں 12: 4-11 ؛ دُوسرا کرنتھیوں 12:12 ؛ افسیوں 20:2 ؛ 4 : 7-12 )۔

:فرشتے اور شیاطین

ہم فرشتوں کی شخصیت اور حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خُدا نے فرشتوں کو اپنی خدمت اور پیغام پہنچانے کیلئے تخلیق کیا (نحمیاہ 6:9 ؛ زبُور 2:148 ؛ عبرانیوں 14:1 )۔

ہم ابلیس اور شیاطین کی شخصیت اور وجود پر یقین رکھتے ہیں ۔ ابلیس ایک گُمراہ فرشتہ ہے جس نے خُدا کے خلاف بغاوت میں فرشتوں کے ایک گروہ کی قیادت کی (یسعیاہ 14: 12-17 ؛ حزقی ایل 28 : 12-15 )۔ وہ خُدا اور انسان کا بڑا دُشمن ہے ، اور شیاطین اُس کے بُرائی میں خادم ہیں ۔ وہ اُس کے شیاطین آگ کی جھیل میں ہمیشہ کی سزا پائیں گے (متی 41:25 ؛ مُکاشفہ 10:20 )۔

:بنی نوع انسان

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ بنی نوع انسان خُدا کی براہِ راست تخلیق سے وجود میں آئے اور کہ انسان خُدا کی شکل اور صُورت پر بنایا گیا ہے (پیدائش 1: 26-27 )۔ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ سب انسان ، آدم کی برگشتگی کے سبب مورُوثی گناہ رکھتے ہیں ، جس کے سبب سب انسان گناہ کرنا چُنتے ہیں (رومیوں 23:3 ) اور کہ سب گناہ خُدا کو سخت ناپسند ہیں (رومیوں 23:6 )۔ انسان کسی طور بھی اِس برگشتہ صورتحال کا علاج نہیں کرسکتا (افسیون 1:5-2 ، 12 )۔

:نجات

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ نجا ت یسوع مسیح کے صلیب پر تکمیل شُدہ کام پر ایمان کے وسیلہ سے خُدا کے فضل کی نعمت ہے (افسیوں 8:2-9 )۔ مسیح کی موت گناہ سے مُخلصی اور ایمان کے وسیلہ سے مُکمل راستبازی کی تکمیل کرتی ہے۔مسیح ہماری خاطر موا (رومیوں 8:5-9 ) اور اُس نے اپنے بدن پر ہمارے گناہ برداشت کئے (پہلا پطرس 24:2 )۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ نجات صرف فضل ہی کے وسیلہ سے پائی جاتی ہے، صرف ایمان کے وسیلہ سے ، اور صرف مسیح کے وسیلہ سے۔ نیک کام اور فرمانبرداری نجات کا نتیجہ ہیں نہ کہ نجات کیلئے ضروری لوازمات۔ مسیح کی قُربانی کے عظیم ہونے، کافی ہونے اور کامل ہونے کے سبب وہ سب جو حقیقی طور مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبُول کرتے ہیں ، وہ ہمیشہ کے لئے مسیح میں مہربند اور محفوظ ، اور خُدا کی قُدرت سے قائم نجات میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں (یوحنا 6: 37-40؛ 10: 27-30 ؛ رومیوں 8:1 ، 38-39 ؛ افسیوں 13:1-14؛ پہلا پطرس 5:1 ؛ یہوداہ 24)۔ جس طرح نجات نیک کاموں سے حاصل نہیں کی جا سکتی اِسی طرح اِسے قائم رکھنے اور اِس کے کام کرنے کے لئے نیک کاموں کی ضرورت نہیں ہوتی اور تبدیل زندگیاں نجات کے یقینی نتائج ہیں (یعقوب 2)۔

:کلیسیا

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ کلیسیا ، مسیح کا بدن، موجودہ دور کے سب ایمانداروں پر مُشتمل ایک رُوحانی نظام ہے(پہلا کرنتھیوں 12:12-14؛ دُوسرا کرنتھیوں 2:11؛ افسیوں 22:1-23؛ 25:5-27 )۔ ہم ایمانداروں کا پانی میں اُترنے کے ذریعے بپتُسمہ جوبطور مسیح کی گواہی اور اُس کے ساتھ شناخت ہے اور عشائے ربانی پر جو مسیح کی موت اور خُون بہانے کی یادگاری ہے کے حُکموں پر ایمان رکھتے ہیں(متی 28: 19-20؛ اعمال 2: 41-42؛ 18:8؛ پہلا کرنتھیوں 23:11-26 )۔ کلیسیا کے توسط سے ، ایمانداروں کو خُداوند کی فرمانبرداری سکھایا جانا چاہئے اور اُنہیں مسیح میں بطور اپنے نجات دہندہ کے ایمان کی گواہی دینا چاہئے اور پاک زندگی گُزارنے سے اُسے عزت بخشنی چاہئے۔ ہم ارشادِ عظیم کو بطور کلیسیا کے اولین مشن ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ سب ایمانداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کلام اور زندگی سے خُدا کے کلام کی سچائیوں کی گواہی دیں۔ خُدا کے فضل کی خُوشخبری کی ساری دُنیا میں مُنادی کی جانی چاہئے (متی 28: 19-20 ؛ اعمال 8:1 ؛ دُوسرا کرنتھیوں 19:5-20 )۔

:آخری گھڑی کی بابت

ہم مُبارک اُمید پر یقین رکھتے ہیں (طیطس 13:2 )نیز خُداوند یسوع مسیح کی شخصی اور جلد آمد پر کہ وہ اپنے مُقدسوں کو زندہ اُٹھانے کیلئے آئے گا (پہلا تھسلنیکیوں 13:4-18 )۔ ہم مسیح کی اپنے مُقدسوں کے ساتھ زمین پر واضح اور جسمانی آمد پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنی وعدہ کی گئی ہزار سالہ دور کی بادشاہی قائم کرے گا (زکریاہ 4:14-11 ؛ پہلا تھسلنیکیوں 10:1 ؛ مُکاشفہ 10:3 ؛ 11:16-19 ؛ 20: 1-6 )۔ ہم سب انسانوں۔مُقدسوں کے جسمانی جی اُٹھنے اور نئی زمین پر ابدی شادمانی اور خُوشی اور شریروں کی آگ کی جھیل میں ابدی ہلاکت پر یقین رکھتے ہیں (متی 46:25 ؛ یوحنا 5: 28-29 ؛ مُکاشفہ 20 :5-6 ؛ 12-13 )۔

ہم یقین رکھتے ہیں کہ ایمانداروں کی رُوحیں موت کے بعد جسم کو چھوڑتی ہیں اور خُداوند سے جا ملتی ہیں جہاں وہ اپنے جی اُٹھنے کا انتظار کرتی ہیں جب روح جسم اور جان خُداوند کے ساتھ ابدی جلال پانے کے لئے پھر اکٹھے ہونگے(لُوقا 43:23 ؛ دُوسرا کرنتھیوں 8:5؛ فلپئیوں 23:1؛ 21:3 ؛ پہلا تھسلنیکیوں 16:4-17 )۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ بے دینوں کی رُوحیں موت کے بعد یکسر کسمپرُسی میں رہتی ہیں جب تک وہ جی نہ اُٹھیں اور تب جسم و جان کے ملاپ کے ساتھ وہ عدالت کے بڑے سفید تخت کے سامنے ظاہر ہونگے اور ابدی ہلاکت جھیلنے کے لئے آگ کی جھیل میں ڈالے جائیں گے (متی 41:25-46؛ مرقس 43:9-48 ؛ لُوقا 16: 19-26 ؛ دُوسرا تھسلنیکیوں 7:1-9 ؛ مُکاشفہ 20: 11-15 )۔